info@ziaululoom.com 9808112233

جامعہ ضیاء العلوم

جامعہ ضیاء العلوم

نصف صدی کاعلمی سفر مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں تحریر: سعید احمد حبیبؔ تقسیم ہند کے سانحہ کواگر گذشتہ صدی کا سب سے دلخراش اور دردناک المیہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا برطانوی سامراج کی منافرت اور تقسیم پرمبنی سیاست نے وطن عزیز اور اس میں ہزاروں سال سے بلا امتیاز رنگ ونسل بسنے والی آبادی کو اور متحدہ قومیت کے نظریے کو جوناقابل تلافی نقصان پہنچایا، اس کی تلافی اب ناممکن لگتی ہے تقسیم ہند کے دوررس نقصاندہ اثرات کو نسل درنسل محسوس کیا جاتارہے گااور اس کے درد اور کرب سے نہ جانے ہماری کتنی نسلیں کراہتی رہیں گی اس تقسیم نے نہ صرف پورے برصغیر کے سیاسی وسماجی حالات کو متاثر کیا بلکہ دوقومی نظریے کی بنیاد کے قیام سے مسلمانان ہند کو بہت سی آزمائشوں اور مسائل سے بھی دوچار کیابرصغیر ہو یاوطن عزیز ہو اس پورے خطہ کی مجموعی آبادی کو اور بالخصوص مسلمانوں کو اس تقسیم نے شدید حالات سے دوچار کردیا تقسیم کے اس وسیع پس منظر کے حالات ومشکلات نے جہاں چہارسو مصائب ومشکلات کو جنم دیا وہاں ریاست جموںوکشمیر کو بھی اپنی شناخت اور جغرافیہ سے محروم ہوناپڑا ریاست کے کئی حصوں میں تقسیم سے یہاں کی جغرافیائی حیثیت کو بہت نقصان پہنچابالخصوص خطہ راجوری پونچھ جسے علاقہ کے جغرافیائی پس منظر میں ’’پیر پنجال‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے تقسیم کی تلوار نے اس خطہ کودولخت کردیا اور یوں یہ علاقہ اس طرح منقسم ہواکہ اس علاقہ کی اکثر آبادی کے خونی رشتوں کو بھی تقسیم ہونا پڑا دس لاکھ سے زائد کی اس آبادی میں شاید ہی کوئی ایسا گھر یا خاندان بچا ہوجس نے خونی رشتوں کی تقسیم کے درد کو نہ سہاہو بھائی اِدھر تو بہن اس طرف ماں اِس طرف تو باپ اُس پار زمین وجائداد کا بٹوارہ تو ہواہی اس جغرافیائی اور مالی نقصان نے اس خطہ کی آبادی کو معاشی اعتبار سے بھی کمزور کیا اس کے ساتھ ساتھ یہاں کی آبادی کو جس طرح خونی رشتوں کی جدائی اور علیحدگی کی تکلیف سے گذرنا پڑا وہ ناقابل بیان ہے رشتوں کی تقسیم کے درد کی داستاں اس قدر تکلیف دہ اور بھیانک ہے کہ اسے آج بھی یاد کرتے ہوئے پرانی نسل کے لوگ اشکبار ہوجاتے ہیں بٹوارے کے حالات میںجو کچھ جھیلا گیا اور برداشت کیا گیا اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں وہ ایک درد ہے کرب ہے الم ہے غم ہے، اور ایک خونی داستان ہے تقسیم کے درد کی یادوں کو کوئی ایک طبقہ یا سماج محسوس نہیں کرتا بلکہ بلا امتیاز رنگ ونسل یہاں کی پوری آبادی نے اس درد کو دیکھا بھی ہے اور اس کی یادوں سے آج بھی خوفزدہ ہوجاتا ہے۔ ۱۹۴۷ءکی تقسیم نے بالخصوص خطہ پونچھ کو جوجغرافیائی اعتبار سے ایک مستقل اور علیحدہ ریاست تھی اس طرح تقسیم کیا کہ یہ علاقہ ایک خوشحال علمی ادبی وتجارتی شاہراہ سے کٹ کر ایک ویران سرحدی گاؤں بن گیا کہنے کو تویہ ایک ضلع تھا اور اس کا شہر ضلعی مرکز تھا مگر جغرافیائی اعتبار سے یہ خطہ اس طرح محدود ہوکر رہ گیا ویرانگی اور پسماندگی کے شکار اس خطے کو ۱۹۴۷ء کی تقسیم کے درد نے جو گھاؤ دیئے تھے وہ ابھی بھرے ہی نہیں تھے کہ ۱۹۶۵ء اور ۱۹۷۱ء کی ہندوپاک کی جنگ نے بھی اسی خطہ کو میدان کارزار بنایا ان دوجنگوں نے بھی اس خطہ کے سماجی ومعاشی حالات کو بری طرح تباہ کیا اور پھر سن نوے کی دہائی کی شورش نے بھی اس خطہ کے حالات کو مزید ابتر کردیا تعمیر وترقی کے تمام راستے محدود ہوکر رہ گئے اس نوتشکیل شدہ جغرافیائی پہچان نے اس سے اس کی علمی ادبی اوربا الخصوص معاشی خوشحالی کو چھین لیا غیر منقسم ہندوستان میں یہ خطہ علم وادب اور معیشت کا گہوارہ رہا مغلیہ حکمرانوں کی شاہراہ ادب کے دنیا کے عالمی شہرت یافتہ ادیب وشاعرمولاناچراغ حسن حسرت کی ادبی آماجگاہ ہندوستان کے سابق وزیر اعظم گلزاری لال نندہ کا مسکن امیر شریعت سید عطا ء اللہ شاہ بخاریؒ اور مفکر اسلام علامہ سید علی میاں ندوی علیہ الرحمہ جیسے علم وعمل کے آفتاب وماہتاب کے متعدد اسفار کا گواہ یہ خطہ جب اپنی تمام تر رونقوں سے محروم ہوا تو سچ میں ہندوستان کی پونچھ بن کر رہ گیا اب یہاں نہ علم وادب کی مجالس تھیں نہ معاشی حالات تھے اور نہ ہی یہاں پہنچ پانا آسان تھا اور نہ یہاں آنے جانے کی کوئی خاص وجہ بچی تھی فقط ایک ناکارہ اور تنگ شاہراہ تھی جو جموں سے پونچھ کو جوڑتی تھی مسافت کم مگر راستہ اسقدر تکلیف دہ تھا کہ اولاً یہاں کوئی آنے کو تیار نہیں ہوتاا گر ایک بار آجائے تو دوسری بار نہ آنے کی توبہ وہ یہاں سے ہی کرکے جاتا، ان تمام حالات کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مصائب ومسائل پسماندگی اورجہالت اور غربت کے ان حالات میں جب ۱۹۷۴ء میں اس علاقہ میں ’’جامعہ ضیاء العلوم ‘‘کا قیام عمل میں لایاگیا تو اس خطہ کی آبادی کو ایک ایسی سوغات ملی جس نے اللہ کے فضل وکرم سے اس خطہ کی تصویر ہی بدل ڈالی بانی جامعہ حضرت مولانا غلام قادر صاحب مدظلہ العالی نے اپنی فراغت کے بعد اپنی جوانی کے پانچ سال سرزمین میوات میں اس لیے گذارے کہ یہاں کام کے لیے میدان ہی ہموار نہ تھا یہاں کے بہت سے نامور اور صالح علماء نے صرف اس لیے ہجرت کی کہ اس خطہ میں دینی وعلمی کام کرنا گویا جوئے شیر لانا تھا مولوی بننا ایک گالی تھی شرک وبدعات کے ماحول میں قرآن وسنت کی بات کرنا ایک جرم تھا، ۱۹۴۷ھ سے ۱۹۷۴ء تک کا یہ عرصہ یہاں کی مسلمان آبادی کے لیے جہالت مایوسی اور محرومی کا دور تھا ریاست کی دونوں راجدھانیوں جموں اور سری نگر سے دوری ایسی کہ جموں سے پونچھ آنے کے پورا ایک دن درکار تھا جبکہ سری نگر سے پونچھ آنے کے لیے دودن کی مسافت طے کرنا پڑتی تھی بالآخر بانی جامعہ حضرت مولانا غلام قادر صاحب دامت برکاتہم نے صرف اس جوابدہی کے احساس کے پیش نظر کہ کل میدان محشر میں اللہ کے حضور جب اس خطہ کی علمی ودینی ویرانگی اور محرومی کا سوال ہوگا تو جواب کیادوں گا ڈر خوف اور ہمالیائی مشکلات کے باوجود ضیاء العلوم کو قائم کیا ۱۹۷۴ء میں ضیاء العلوم قائم ہواتو۱۹۷۵ھ میں عالم اسلام کی عالمگیر شہرت کی حامل دینی دانشگاہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ پونچھ میں قائم اس نومولود مدرسہ میں تشریف لاتے ہیں حضرت کا یہ سفر جموں سے پونچھ تک لگ بھگ بارہ گھنٹوں میں مکمل ہوا یہ فقط حکمت خداوندی تھی یا منشاء ایزدی کہ حکیم الاسلام علیہ الرحمہ یہاں نہ جانے کب اور کیسے پہونچے بانی ٔ جامعہ مولانا غلام قادر صاحب نے بس ایک سادہ سی امید بھری دعوت دی کہ حکیم الاسلام علیہ الرحمہ اس خطہ کے سفر کے لیے تیار ہوگئے اپنی ضعیف العمری جسمانی کمزوری اور بے پناہ مصروفیات کے باوجود دسمبر کی کپکپاتی ٹھنڈی سردی کے موسم میں حضرت علیہ الرحمہ نے پونچھ کے اس گمنام خطے کا جو سفر کیا ہے اس کے وقوع کے حالات واسباب آج بھی سمجھنے سے سمجھ نہیں آتے عالم اسلام کی اس عظیم الشان ہستی کی غیر متوقع آمد نے بانی جامعہ کے حوصلوں کو ایسی جلا بخشی کہ پھر جامعہ نے کبھی بھی پیچھے مڑکر نہیںدیکھا جامعہ کے پچاس سالہ علمی دعوتی دینی سفر کی داستان اس قدر دل دہلادینے والی ہے کہ اسے سننے اور جاننے کے بعد کسی کے اختیار میں نہیں کہ وہ اپنے آنسوؤں کو روک سکے اجنبیت اور تنہائی کے ماحول میں جہاں مخالفتوں کی یلغار ہوحالات ایسے بنے کہ اپنے ہی نادان دینی بھائیوں نے مدرسہ پر متعدد حملے کیے مدرسہ کے املاک کو نقصان پہنچایا مدرسہ کو چھیننے اور تہس نہس کرنے کی کوشش کی مدرسہ کے ایک حصہ کو ایک عرصہ تک مدرسہ کے مالکانہ حقوق سے محروم رکھا گیا بانی جامعہ کو قیدوبند کے حالات سے گذرنا پڑا بانی جامعہ کے رفقاء اور جان نثاروں کو حیران وپریشان کیا گیا ان سب حالات کے باوجود اللہ رب العزت نے بانی جامعہ کو جو عزم واستقلال بخشا تھا اس کی بدولت وقت گذرتا گیا تاریکی اور تنگی کے بادل چھٹتے رہے بانی جامعہ نے اپنے اسلاف واکابر کے نقش قدم پر قائم رہتے ہوئے اپنے مخالفین سے الجھنے کے بجائے خالص فکری اوردعوتی انداز میں اپنے مخلصانہ مشن کو جاری رکھا مدرسہ کے قیام کے ساتھ ہی اسکول بھی قائم کیا بچوں کی تعلیم کے ساتھ بچیوں کے تعلیم کے لیے ادارہ قائم کیا خود دعوت وتبلیغ کے لیے تبلیغی اسفار علاقے کی غربت اور پسماندگی کے حالات میں رفاعی اور فلاحی سرگرمیوں کا آغاز کیا سماج کے غریب اور کمزور طبقات کی داد رسائی کی تمام مذہبی برادریوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کئے ان کے دکھ درد کے حصہ دار بنے یہی وجہ ہے کہ اس خطہ میں رہنے والے تمام لوگ بلا امتیاز مذہب ومشرب بانی جامعہ مولانا غلام قادر حفظہ اللہ کا دل وجان سے نہ صرف احترام کرتے ہیں بلکہ جی جان سے چاہتے بھی ہیں ۔

آج ۲۰۲۴ء جب جامعہ ضیاء العلوم پونچھ اپنی عمر کے پچاس سال مکمل کرچکا ہے الحمد للہ نصف صدی کا یہ سفر جہد مسلسل عزم وہمت اخلاص واستقلال کا ایک ایسا خوبصورت اور روح پرورسفر ہے جس میں جدوجہد بھی ہے اخلاص بھی ہے درد بھی ہے اور منزل کے حصول کا عزم پیہم بھی ہے یہاں آنے والے ہر ذی شعور شخص کو اس علاقہ کی جغرافیائی دوری معاشی پسماندگی اور مقامی مسائل ومصائب کا خوب اندازہ ہوجاتا ہے مگر اللہ پاک کا بے پایاں فضل وکرم اور احسان ہے کہ اس ذات باری تعالیٰ نے محض اپنے فضل وکرم سے اور اہل اللہ کی دعاؤں اور توجہات سے آج اس ادارہ کو یہ مقام بخشا ہے کہ ۱۹۷۴ء کا ایک جھونپڑی نما مدرسہ آج نہ صرف ایک جامعہ ہے بلکہ ایک علمی تحریک کی شکل میں اپنی بے لوث دینی تعلیمی دعوتی خدمات انجام دے رہا ہے۔

مشکل اور تنگ وتاریک راہوں سے گذرتے گذرتے مالک کون ومکان نے سہولت اور آسانی کی جس شاہر پر لاک کھڑا کیا ہے وہ ’’ان مع العسر یسرا‘‘ کے خدائی وعدے کی خوبصورت تعبیر ہے جوہر اخلاص اور صدق ووفاکا مقدر ہواکرتا ہے بقول غالب ؎

رنج سے خوکر ہوا انسان تومٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں

Jamia Ziaul Uloom - Copyright 2023. Design by Madni Soft Solutions (# 8273074473)