
معائنہ اکابر
معائنہ اکابر
حکیم الاسلام علامہ قاری محمد طیب صاحب ؒ
سابق مہتمم دارالعلوم دیو بند
نحمده ونصلى على رسوله الكريم: آج بتاریخ ۳ محرم الحرام ۱۳۹۷ھ مدرسہ ضیاء العلوم پونچھ میں حاضری کا شرف میسر ہوا ، دلی راحت دسرة حاصل ہوئی مدرسہ کی سادگی اور فقر دوستی نے دل پر اثر کیا، مولانا غلام قادر صاحب اور دوسرے متعدد فضلاء و علماء نے اس مدرسہ کی آبیاری کو اپنا مقصد زندگی بنا کر اور اس کی تعمیر ونکھار میں انتہائی جانفشانی اور جدو جہد فرمائی ہے جس سے اس مدرسہ نے مدرسہ کی صورت اختیار کی ہے اور الحمد للہ ترقی پر ہے، آج مدرسہ میں حمد للہ ڈیڑھ سو سے اوپر طلبہ کی تعداد ہے اور حضرات اساتذہ چھ سات اور اس قدر عملہ کام کر رہا ہے سال ڈیڑھ سال میں مدرسہ کا اس درجہ پر پہونچ جانا حضرات اساتذہ کارکنان کے اخلاص اور حسن نیت کا ثمرہ ہے ستر کے قریب امدادی طلبہ مدرسہ سے امداد پارہے ہیں دعاء ہے کہ حق تعالی ان حضرات کے عمل کو قبول فرمائے ، اور مدرسہ کی ضیاء اس پورے علاقہ کے لئے روشنی بخش ثابت ہو۔
ارباب خیر توجہ فرمائیں گے تو اس مدرسہ کی تعمیری اور تعلیمی مقاصد کی تکمیل کوئی دشوار مرحلہ نہ ہوگی ان الله لا يضيع أجر المحسنين.
محمد طیب مہتمم دارالعلوم دیو بند
حضرت مولانا سید انظر شاہ کشمیریؒ
سابق شیخ الحدیث دار العلوم وقف دیو بند
تاریخ : ۱۳ شعبان المعظم ۱۳۰۸ھ کو احقر جناب مولانا غلام قادر صاحب رئیس ادارہ ضیاء العلوم پونچھ کی دعوت پر ادارہ میں حاضر ہوا اور شب پیر ایک جلسہ عام میں شرکت و خطاب کی سعادت نصیب ہوئی۔
اس درسگاہ سے خاکسار کا قدیمی و قریبی تعلق ہے لیکن دور سے اس کی قابل رشک ترقیات کی متواتر خبریں سنتا یہ تصور بھی نہیں تھا کہ کوہستان علاقہ اور غیر مانوس ماحول میں ایک ایسی عدیم النظیر درسگاہ ہوگی جو پورے کشمیر کے لئے باعث صد فخر واہالیان ریاست کے لئے موجب ہزار نازش ہے۔
بلا شبہ اس درسگاہ کی روز افزوں ترقیات مجاہد قوم مولانا غلام قادر کے بلند حوصلوں مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہیں خدا تعالی نے موصوف کو اخلاص للہیت وسعی پہیم کی وافر دولت عطا فرمائی کہ ان کی کاوشوں سے دلکش عمارت اور روح افزاء مسجد تعمیر ہوگئی ہیں ، یہ عمارت اور مسجد خالص مدرسہ کی ملکیت ، اور عامتہ المسلمین جو مسلک توسیم پر مستقیم ہیں کہ داد و دہش کا ثمرہ میں تعلیم، تربیت کا رکنوں کی مستعدی، طلباء کے بہترین اخلاق سب کچھ اس درسگاہ کے روشن مستقبل کی واضح علامت ہیں خدا تعالی اس ادارہ کو ہمیشہ محفوظ رکھے اور دین کی صیح خدمت کی توفیق ارزانی ہو عامتہ المسلمین اسے مالی تعاون دیکر اپنے ملی و مذہب مخلصانہ جذبات کا مظاہر كرين، وما علينا الا البلاغ
انظر شاہ خادم التدلیس دارالعلوم وقف دیوبند
حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحبؒ
استاذ حدیث دارالعلوم دیو بند
بفضلہ تعالی مؤرخہ ۲۲ شوال ۱۳۲۵ جامعہ ضیاء العلوم پونچھ میں دوسری بار حاضری کا موقع ملا اور تربیتی کیمپ برائے تحفظ ختم نبوت کے دوروزہ پروگراموں میں شرکت کی جس کا اہتمام جامعہ نے کیا تھا جس میں١١٦ علماء کرام اور دانشوران بھی موجود تھے، اس موقع پر جامعہ ہذا کے تحت چلنے والے ادارہ جامعہ الطیبات میں درس بخاری شریف کے آغاز کی پر وقار اور سادہ تقریب میں بھی کچھ عرض کرنے کی توفیق ملی ، دوران قیام جامعہ ہذا کے حالات اور اس کی ٹھوس دینی وعلمی خدمات کا تفصیلی علم حاصل ہونے سے بہت مسرت ہوئی ، اس علاقہ میں معتدل فکر کی ترویج و اشاعت کا ایک بڑا مرکز یہ جامعہ ہے جس نے اپنے سن قیام سے اب تک تمیں سالہ عرصہ میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور حضرت مولانا غلام قادر صاحب مدظلہ مہتمم جامعہ کی فہم و فراست اور حسن تدبیر سے ترقی کے منازل طے کر رہا ہے اس مدرسہ میں درجات حفظ و ناظرہ اور دینیات کے ساتھ عربی ششم تک تعلیم کا سلسلہ جاری ہے سالانہ مصارف تقریبا ۷۴۵۰۰۰۰ رساڑھے چہتر لاکھ روپے ہوتے ہیں اہل خیر حضرات سے پر زور التماس ہے کہ جامعہ کا بھر پور تعاون فرما کر اجر جزیل کے مستحق بنیں محمد عثمان منصور پوری نایب مہتمم دارلعلوم دیوبند
مولا نا خلیل الرحمن صاحب سجاد نعمانی ندوی مدظلہ
آج بتاریخ ۶ نومبر ۱۹۹۴ء مدرسہ ضیاء العلوم پونچھ کے سہ روزہ اجلاس میں شرکت کے لئے حاضری ہوئی، اس دور دراز علاقہ میں اس مدرسہ کی خدمات ، اس کے اثرات اس کے لائق صد احترام بانی حضرت مولانا غلام قادر صاحب مدظلہ کے خلوص و محبت اور عزیمت و محبت کے جو مناظر دیکھنے کو ملے انہوں نے دل کو خوش کیا اور ایمان میں زیادتی ہوئی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی اس ادارہ کو ظاہری و باطنی ترقیات سے نوازے اور یہاں سے علمائے ربانین کی وہ نسل تیار ہو جو پوری ریاست جموں و کشمیر بلکہ پورے عالم میں دین حق کی مخلصانہ خدمت اور پوری انسانیت کی رہنمائی کرے۔ آمین
را قم ان سب حضرات کا ممنون ہے کہ انہوں نے اسے یہاں حاضری کا موقع عنایت فرمایا اور ان سب حضرات سے دعاؤں کا محتاج اور طالب ہے۔
والسلام
خلیل الرحمن سجاد نعمانی ندوی مدیر ماہ نام الفرقان لکھنو
حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب دامت برکاتہم
صدر جمعیۃ علماء ہند
نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم اما بعد
جامعہ ضیاء العلوم پونچھ (جموں و کشمیر ) نصف صدی سے دین اسلام کی نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔ پونچھ وہ خطہ ہے جہاں تقسیم ہند کا گہرا اثر پڑا تقسیم ہند کی وجہ سے مسلمانوں کاسرمایہ دار طبہ اور علم وادب سے لگا رکھنے والی ایک بہت بڑی آبادی پاکستان چلی گئی، جس کی وجہ سے یہ علاقہ اقتصادی اور علمی اعتبار سے محروم ہو گیا۔ اسی طرح ملک کے دوسرے خطوں میں بھی کئی طرح کے مسائل اور چیلنجز کھڑے ہوئے۔ جمعیۃ علماء ہند کے اکابر رحمہ اللہ نے پوری پامردی سے ان حالات کا مقابلہ کیا جو تاریخ کے سینے میں محفوظ ہے۔
دیگر اہم خدمات کے علاوہ جمعیۃ علماء ہند کی قیادت نے لوگوں کو مذہبی تعلیم کی طرف توجہ دلائی ۔ جمعیہ نے لوگوں سے اپیل کی کہ آزادی کی جد و جہد میں زیادہ جوش کی ضرورت تھی لیکن اب زیادہ سے زیادہ ہوش کی ضرورت ہے، جمعیتہ علماء ہند آزاد ہندستان کی سب سے پہلی جماعت تھی جس نے یہ محسوس کیا کہ آزاد ملک میں دینی تعلیم و زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے، اس مقصد کے لیے اس نے غیر معمولی تحریک چلائی اور مسلمانوں کے جملہ مکاتب خیال میں اس نقطہ نظر کو عام کرنے کے لیے دسمبر ۱۹۵۴ میں مبئی میں تعلیمی کنونشن منعقد کیا، جس میں تمام فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے شرکت کی ، انھوں نے ایک لائحہ عمل مرتب کیا کہ ایک سیکولر ملک میں مذہبی تعلیم کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے، ارشاد باری تعالی ہے کہ مسلمانوں میں ایک گروہ ایسا ہو جو دینی تعلیم کوسیکھے اور سکھائے، علماء کا یہی کام ہے، اور اس کے لیے ہی دینی مدارس قائم کئے گئے ۔ اب علماء کی ہی ذمہ داری تھی کہ ان بچوں کے لیے مذہبی تعلیم کا انتظام کرے جو مدرسوں کا رخ نہیں کرتے ہیں۔ ایک ایسی تحریک جو خشک معلوم ہوتی تھی، الحمد للہ ایک مسلسل جدو جہد کا نتیجہ ہے کہ وہ پورے ملک کے مسلمانوں میں عام ہو چکی ہے۔
اسی سلستۃ الذہب کے تحت اللہ جزائے خیر عطا فرمائے کہ حضرت مولانا غلام قادر صاحب بانی و مہتمم جامعہ ہذا نے ایسے دل سوز دینی اور علمی اعتبار سے پسماندہ ماحول میں ایک علمی اور دین شجر کا بج بونے کے اسباب مہیا کئے۔ جو آج ایک مضبوط شجر سایہ دار بن گیا ہے۔ خاکسار کو بھی اس ادارہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے: مشاہدے میں پایا کہ جامعہ ماشاء اللہ دینی تعلیم کے ساتھ شعبہ عصری علوم قائم کر کے نسل نو کو اسلامی اقدار وروایات کو اپنی عملی زندگی اپنانے کے لئے ماحول فراہم کر رہا ہے۔ ساتھ ہی مکاتب دینیہ کے قیام کے ذریعہ نئی نسل کے اس طبقے کو علم دین سےسیراب کر رہا ہے جو اسکول کا رخ کرتے ہیں۔
یہ جان کر انتہائی مسرت ہوئی کہ جامعہ کی روشن خدمات کی نصف صدی مکمل ہونے پر ایک خاص شمارہ منظر عام پر آ رہا ہے۔ دعاء ہے کہ اللہ تعالی اس ادارہ کو ترقیات سے نوازے اور بانی ، معاونین اور خدام کی محنتوں کو قبول کرتے ہوئے دارین میں فلاح و بہبود عنایت فرمائے ( آمین )
فقط واللہ الموفق
محمود اسعد مدنی صدر جمعیت علما ہند 18میی