





جامعہ ضیاء العلوم پونچھ
تقسیم ہند کے سانحہ کواگر گذشتہ صدی کا سب سے دلخراش اور دردناک المیہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا برطانوی سامراج کی منافرت اور تقسیم پرمبنی سیاست نے وطن عزیز اور اس میں ہزاروں سال سے بلا امتیاز رنگ ونسل بسنے والی آبادی کو اور متحدہ قومیت کے نظریے کو جوناقابل تلافی نقصان پہنچایا، اس کی تلافی اب ناممکن لگتی ہے تقسیم ہند کے دوررس نقصاندہ اثرات کو نسل درنسل محسوس کیا جاتارہے گااور اس کے درد اور کرب سے نہ جانے ہماری کتنی نسلیں کراہتی رہیں گی اس تقسیم نے نہ صرف پورے برصغیر کے سیاسی وسماجی حالات کو متاثر کیا بلکہ دوقومی نظریے کی بنیاد کے قیام سے مسلمانان ہند کو بہت سی آزمائشوں اور مسائل سے بھی دوچار کیابرصغیر ہو یاوطن عزیز ہو اس پورے خطہ کی مجموعی آبادی کو اور بالخصوص مسلمانوں کو اس تقسیم نے شدید حالات سے دوچار کردیا تقسیم کے اس وسیع پس منظر کے حالات ومشکلات نے جہاں چہارسو مصائب ومشکلات کو جنم دیا وہاں ریاست جموںوکشمیر کو بھی اپنی شناخت اور جغرافیہ سے محروم ہوناپڑا ریاست کے کئی حصوں میں تقسیم سے یہاں کی جغرافیائی حیثیت کو بہت نقصان پہنچابالخصوص خطہ راجوری پونچھ جسے علاقہ کے جغرافیائی پس منظر میں ’’پیر پنجال‘‘ کے نام سے جانا ۔۔۔۔مزید پڑھیں